آپ میں ہم سے بے خود و رفتہ پھر پھر بھی کیا آتے ہیں

دیوان چہارم غزل 1452
دل کی لاگ بری ہے ہوتی چنگے بھلے مرجاتے ہیں
آپ میں ہم سے بے خود و رفتہ پھر پھر بھی کیا آتے ہیں
رنگ نہ بدلے چہرہ کیونکر آنکھیں بیٹھی جائیں نہ کیوں
کیسے کیسے غم کھاتے ہیں کیا کیا رنج اٹھاتے ہیں
جی ہی جائے ہے میر جو اپنا دیر کی جانب کیا کریے
یوں تو مزاج طرف کعبے کے بہتیرا ہم لاتے ہیں
میر تقی میر