آنکھ اٹھاکر جب دیکھے ہیں اوروں میں ہنستے جاتے ہو

دیوان اول غزل 391
ہم سے تو تم کو ضد سی پڑی ہے خواہ نخواہ رلاتے ہو
آنکھ اٹھاکر جب دیکھے ہیں اوروں میں ہنستے جاتے ہو
جب ملنے کا سوال کروں ہوں زلف و رخ دکھلاتے ہو
برسوں مجھ کو یوں ہی گذرے صبح و شام بتاتے ہو
بکھری رہیں ہیں منھ پر زلفیں آنکھ نہیں کھل سکتی ہے
کیونکے چھپے مے خواری شب جب ایسے رات کے ماتے ہو
سرو تہ و بالا ہوتا ہے درہم برہم شاخ گل
ناز سے قد کش ہوکے چمن میں ایک بلا تم لاتے ہو
صبح سے یاں پھر جان و دل پر روز قیامت رہتی ہے
رات کبھو آ رہتے ہو تو یہ دن ہم کو دکھلاتے ہو
جن نے تم کو نہ دیکھا ہووے اس سے آنکھیں مارو تم
ایک نگاہ مفتن کر تم سو سو فتنے اٹھاتے ہو
چشم تو ہے اک دید کی جا پر کب تکلیف کے لائق ہے
دل جو ہے دلچسپ مکاں تم اس میں کب کب آتے ہو
راحت پہنچی ٹک تم سے تو رنج اٹھایا برسوں تک
سر سہلاتے ہو جو کبھو تو بھیجا بھی کھا جاتے ہو
ہو کے گداے کوے محبت زور صدا یہ نکالی ہے
اب تو میر جی راتوں کو تم ہر در پر چلاتے ہو
میر تقی میر