آنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتے

دیوان اول غزل 558
رات گذرے ہے مجھے نزع میں روتے روتے
آنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتے
کھول کر آنکھ اڑا دید جہاں کا غافل
خواب ہوجائے گا پھر جاگنا سوتے سوتے
داغ اگتے رہے دل میں مری نومیدی سے
ہارا میں تخم تمنا کو بھی بوتے بوتے
جی چلا تھا کہ ترے ہونٹ مجھے یاد آئے
لعل پائیں ہیں میں اس جی ہی کے کھوتے کھوتے
جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میر زبس
ان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے
میر تقی میر