آنکھیں مندیں اب جاچکے ہم وے دیکھو تو آتے ہیں ہنوز

دیوان پنجم غزل 1626
کب سے آنے کہتے ہیں تشریف نہیں لاتے ہیں ہنوز
آنکھیں مندیں اب جاچکے ہم وے دیکھو تو آتے ہیں ہنوز
کہتا ہے برسوں سے ہمیں تم دور ہو یاں سے دفع بھی ہو
شوق و سماجت سیر کرو ہم پاس اس کے جاتے ہیں ہنوز
راتوں پاس گلے لگ سوئے ننگے ہوکر ہے یہ عجب
دن کو بے پردہ نہیں ملتے ہم سے شرماتے ہیں ہنوز
ساتھ کے پڑھنے والے فارغ تحصیل علمی سے ہوئے
جہل سے مکتب کے لڑکوں میں ہم دل بہلاتے ہیں ہنوز
گل صد رنگ چمن میں آئے بادخزاں سے بکھر بھی گئے
عشق و جنوں کی بہار کے عاشق میر جی گل کھاتے ہیں ہنوز
میر تقی میر