آنکھیں اس سے لگیں سو خواب گئی

دیوان چہارم غزل 1529
خواہش دل سے جی کی تاب گئی
آنکھیں اس سے لگیں سو خواب گئی
پھول سے بھی تھی خوب دخترتاک
مغبچوں میں رہی خراب گئی
گر کر اس کی گلی کی خاک میں مفت
اشک کی موتی کی سی آب گئی
بوے گل یا نواے بلبل تھی
عمر افسوس کیا شتاب گئی
نمک حسن سبز سے اے میر
ساری کیفیت شراب گئی
میر تقی میر