آفریں کر اے جنوں میرے کف چالاک پر

دیوان پنجم غزل 1623
سعی سے اس کی ہوا مائل گریباں چاک پر
آفریں کر اے جنوں میرے کف چالاک پر
کیوں نہ ہوں طرفہ گلیں خوش طرح بعضی اے کلال
خاک کن کن صورتوں کی صرف کی ہے خاک پر
گِل ہوئی کوچے میں اس کے آنے سے بھی اب رہا
ابر تو کاہے کو رویا تھا ہماری خاک پر
ہم کو مٹی کر دیا پامالی گردوں نے میر
وہ نہ آیا ناز کرتا ٹک ہماری خاک پر
میر تقی میر