آشنایانہ نہ کی کوئی ادا اپنے ساتھ

دیوان چہارم غزل 1481
یار صد حیف کہ بیگانہ رہا اپنے ساتھ
آشنایانہ نہ کی کوئی ادا اپنے ساتھ
اتحاد اتنا ہے اس سے کہ ہمیشہ ہے وصال
اپنے مطلوب کو ہے ربط سدا اپنے ساتھ
عہد یہ تھا کہ نہ بے وصل بدن سے جاوے
سو جدا ہوتا ہے کی جی نے دغا اپنے ساتھ
رنج نے رنج بہت کھینچے پہنچ کر ہم تک
اک بلا میں ہے گرفتار بلا اپنے ساتھ
دس گنا دکھنے لگا زخم رکھے مرہم کے
درد کا کام رہی کرتی دوا اپنے ساتھ
وارد شہر ہیں یا دشت میں ہم شوق طلب
ہر زماں پھرتا ہے اے میر لگا اپنے ساتھ
میر تقی میر