آسماں کو سیاہ کر لیجے

دیوان دوم غزل 964
صبح ہے کوئی آہ کر لیجے
آسماں کو سیاہ کر لیجے
چشم گل باغ میں مندی جا ہے
جو بنے اک نگاہ کر لیجے
ابر رحمت ہے جوش میں مے دے
یعنی ساقی گناہ کر لیجے
میر تقی میر