آسماں پر گیا ہے ماہ تو کیا

دیوان پنجم غزل 1558
اس کی سی جو چلے ہے راہ تو کیا
آسماں پر گیا ہے ماہ تو کیا
لڑ کے ملنا ہے آپ سے بے لطف
یار ہووے نہ عذرخواہ تو کیا
کب رخ بدر روشن ایسا ہے
ایک شب کا ہے اشتباہ تو کیا
بے خرد خانقہ میں ہیں گو مست
وہ کرے مست یک نگاہ تو کیا
اس کے پرپیچ گیسو کے آگے
ہووے کالا کوئی سیاہ تو کیا
حسن والے ہیں کج روش سارے
ہوئے دو چار روبراہ تو کیا
دل رہے وصل جو مدام رہے
مل گئے اس سے گاہ گاہ تو کیا
ایک اللہ کا بہت ہے نام
جمع باطل ہوں سو الٰہ تو کیا
میر کیا ہے فقیر مستغنی
آوے اس پاس بادشاہ تو کیا
میر تقی میر