آخر کو روتے روتے پریشاں ہو بہ گئے

دیوان سوم غزل 1264
آنکھوں سے راہ عشق کی ہم جوں نگہ گئے
آخر کو روتے روتے پریشاں ہو بہ گئے
اس عرصے سے گیا ہو کہیں کوئی تو کہیں
چل پھر کے لوگ یاں کے یہیں سارے رہ گئے
کیا کیا ہوئے ہیں اہل زماں ڈھیر خاک کے
کیا کیا مکان دیکھتے ناگاہ ڈھہ گئے
ان دلبروں سے کیا کہیں مظلوم عشق ہم
ناچار ظلم و جور و ستم ان کے سہ گئے
تسبیحیں ٹوٹیں خرقے مصلے پھٹے جلے
کیا جانے خانقاہ میں کیا میر کہہ گئے
میر تقی میر