آخر کو جستجو نے تری مجھ کو کھو دیا

دیوان اول غزل 110
جی اپنا میں نے تیرے لیے خوار ہو دیا
آخر کو جستجو نے تری مجھ کو کھو دیا
بے طاقتی سکوں نہیں رکھتی ہے ہم نشیں
رونے نے ہر گھڑی کے مجھے تو ڈبو دیا
اے ابر اس چمن میں نہ ہو گا گل امید
یاں تخم یاس اشک کو میں پھر کے بو دیا
پوچھا جو میں نے درد محبت سے میر کو
رکھ ہاتھ ان نے دل پہ ٹک اک اپنے رو دیا
میر تقی میر