آخر اس اوباش نے مارا رہتی نہیں ہے آئی ہوئی

دیوان چہارم غزل 1506
کب وعدے کی رات وہ آئی جو آپس میں نہ لڑائی ہوئی
آخر اس اوباش نے مارا رہتی نہیں ہے آئی ہوئی
چاہ میں اس بے الفت کی گھبراہٹ دل ہی کو تو نہیں
سارے حواسوں میں ہے تشتت جان بھی ہے گھبرائی ہوئی
گرچہ نظر ہے پشت پا پر لیکن قہر قیامت ہے
گڑ جاتی ہے دل میں ہمارے آنکھ اس کی شرمائی ہوئی
جنگل جنگل شوق کے مارے ناقہ سوار پھرا کی ہے
مجنوں جو صحرائی ہوا تو لیلیٰ بھی سودائی ہوئی
دود دل سوزان محبت محو جو ہو تو عرش پہ ہو
یعنی دور بجھے گی جا کر عشق کی آگ لگائی ہوئی
چتون کے انداز سے ظالم ترک مروت پیدا ہے
اہل نظر سے چھپتی نہیں ہے آنکھ کسو کی چھپائی ہوئی
میر کا حال نہ پوچھو کچھ تم کہنہ رباط سے پیری میں
رقص کناں بازار تک آئے عالم میں رسوائی ہوئی
میر تقی میر