آخرکار کیا کہا قاصد

دیوان اول غزل 199
نہ پڑھا خط کو یا پڑھا قاصد
آخرکار کیا کہا قاصد
کوئی پہنچا نہ خط مرا اس تک
میرے طالع ہیں نارسا قاصد
سر نوشت زبوں سے زر ہو خاک
راہ کھوٹی نہ کر تو جا قاصد
گر پڑا خط تو تجھ پہ حرف نہیں
یہ بھی میرا ہی تھا لکھا قاصد
یہ تو رونا ہمیشہ ہے تجھ کو
پھر کبھو پھر کبھو بھلا قاصد
اب غرض خامشی ہی بہتر ہے
کیا کہوں تجھ سے ماجرا قاصد
شب کتابت کے وقت گریے میں
جو لکھا تھا سو بہ گیا قاصد
کہنہ قصہ لکھا کروں تاکے
بھیجا کب تک کروں نیا قاصد
ہے طلسمات اس کا کوچہ تو
جو گیا سو وہیں رہا قاصد
باد پر ہے برات جس کا جواب
اس کو گذرے ہیں سالہا قاصد
نامۂ میر کو اڑاتا ہے
کاغذ باد گر گیا قاصد
میر تقی میر