آج کل مجھ کو مار رہتا ہے

دیوان اول غزل 600
دل جو پر بے قرار رہتا ہے
آج کل مجھ کو مار رہتا ہے
تیرے بن دیکھے میں مکدر ہوں
آنکھوں پر اب غبار رہتا ہے
جبر یہ ہے کہ تیری خاطر دل
روز بے اختیار رہتا ہے
دل کو مت بھول جانا میرے بعد
مجھ سے یہ یادگار رہتا ہے
دور میں چشم مست کے تیری
فتنہ بھی ہوشیار رہتا ہے
بسکہ تیرا ہوا بلا گرداں
سر کو میرے دوار رہتا ہے
ہر گھڑی رنجش ایسی باتوں میں
کوئی اخلاص و پیار رہتا ہے
تجھ بن آئے ہیں تنگ جینے سے
مرنے کا انتظار رہتا ہے
دل کو گو ہاتھ میں رکھو اب تم
کوئی یہ بے قرار رہتا ہے
غیر مت کھا فریب خلق اس کا
کوئی دم میں وہ مار رہتا ہے
پی نہ ہرگز شراب جیسا چاہ
اس کے نشے کا تار رہتا ہے
پر ہو پیمانہ عمر کا جب تک
تب تلک یہ خمار رہتا ہے
دلبرو دل چراتے ہو ہر دم
یوں کہیں اعتبار رہتا ہے
کیوں نہ ہووے عزیز دلہا میر
کس کے کوچے میں خوار رہتا ہے
میر تقی میر