آج لہو آنکھوں میں آیا درد و غم سے رو رو کر

دیوان چہارم غزل 1389
کل سے دل کی کل بگڑی ہے جی مارا بے کل ہوکر
آج لہو آنکھوں میں آیا درد و غم سے رو رو کر
ایک سجود خلوص دل سے آہ کیا نہ جوانی میں
سر مارے ہیں محرابوں میں یوں ہی وقت کو اب کھو کر
جیب دریدہ خاک ملوں کے حال سے کیا آگاہی تمھیں
راہ چلو ہو نازکناں دامن کو لگا کر تم ٹھوکر
ایک تو ہم تو ہوتے نہیں ہیں سر بہتیرا مار چکے
اب بہتر ہے تیغ ستم کی جلد لگا کر تو دوکر
جی ہی ملا جاتا ہے اپنا میر سماں یہ دیکھے سے
آنکھیں ملتے اٹھتے ہیں بستر سے دلبر جب سو کر
میر تقی میر