آج دیکھا تو باغ بن دیکھا

دیوان اول غزل 113
کل چمن میں گل و سمن دیکھا
آج دیکھا تو باغ بن دیکھا
کیا ہے گلشن میں جو قفس میں نہیں
عاشقوں کا جلاوطن دیکھا
ذوق پیکان تیر میں تیرے
مدتوں تک جگر نے چھن دیکھا
گھر کے گھر جلتے تھے پڑے تیرے
داغ دل دیکھے بس چمن دیکھا
ایک چشمک دوصد سنان مژہ
اس نکیلے کا بانکپن دیکھا
شکر زاہد کا اپنی آنکھوں میں
مے عوض خرقہ مرتہن دیکھا
حسرت اس کی جگہ تھی خوابیدہ
میر کا کھول کر کفن دیکھا
میر تقی میر