آج تو کشتہ کوئی کیا زینت فتراک تھا

دیوان پنجم غزل 1562
کل تلک داغوں سے خوں کے دامن زیں پاک تھا
آج تو کشتہ کوئی کیا زینت فتراک تھا
کیا جنوں کو روئوں تردستی سے اس کی گل نمط
لے گریباں سے زہ دامن تک اک ہی چاک تھا
رو جو آئی رونے کی مژگاں نہ ٹھہری ایک پل
راہ میں اس رود کی گویا خس و خاشاک تھا
اک ہی شمع شعلہ خو کے لائحے میں جل بجھا
جب تلک پہنچے کوئی پروانہ عاشق خاک تھا
بادشاہ وقت تھا میں تخت تھا میرا دماغ
جی کے چاروں اور اک جوش گل تریاک تھا
ڈھال تلوار اس جواں کے ساتھ اب رہتی نہیں
وہ جفا آئیں شلائیں لڑکا ہی بیباک تھا
تنگ پوشی تنگ درزی اس کی جی میں کھب گئی
کیا ہی وہ محبوب خوش ترکیب خوش پوشاک تھا
بات ہے جی مارنا بازیچہ قتل عام ہے
اب تو ہے صدچند اگر دہ چند وہ سفاک تھا
غنچۂ دل وا ہوا نہ باغوں باغوں میں پھرا
اب بھی ہے ویسا ہی جیسا پیشتر غمناک تھا
درک کیا اس درس گہ میں میر عقل و فہم کو
کس کے تیں ان صورتوں میں معنی کا ادراک تھا
میر تقی میر