آتے ہیں کھنچے ہم کبھو بیگار میں صاحب

دیوان چہارم غزل 1354
بیکار بھی درکار ہیں سرکار میں صاحب
آتے ہیں کھنچے ہم کبھو بیگار میں صاحب
محروم نہ رہ جائیں کہیں بعدفنا بھی
شبہ، ہے ہمیں یار کے دیدار میں صاحب
لیتی ہے ہوا رنگ سراپا سے تمھارے
معلوم نہیں ہوتے ہو گلزار میں صاحب
رہتا تھا سرزلف بھی زیرکلہ آگے
سو بال گھڑس نکلے ہیں دستار میں صاحب
ہے چار طرف شور مری بے خبری کا
کیا کیا خبریں آتی ہیں اخبار میں صاحب
گو فہم نہ ہو کفر کی اسلام کی نسبت
رشتہ ہے عجب سبحہ و زنار میں صاحب
یا گفتگو کا میری نہ کرتے تھے کبھو ذکر
یا ہر سخن اب آوے ہے تکرار میں صاحب
طالع سے زلیخا نے لیا مصر میں یوسفؑ
کب ایسا غلام آوے ہے بازار میں صاحب
رکھتی ہے لکھا ساتھ مٹا دینے کا میرے
جوہر نہیں ہے آپ کی تلوار میں صاحب
یہ عرض مری یاد رہے بندگی میں میر
جی بچتے نہیں عشق کے اظہار میں صاحب
میر تقی میر