آب ہو جائے کہ یہ دل خلۂ پہلو ہے

دیوان اول غزل 636
اس ستم دیدہ کی صحبت سے جگر لوہو ہے
آب ہو جائے کہ یہ دل خلۂ پہلو ہے
خون ہوتا نظر آتا ہے کسی کا مجھ کو
ہر نگہ ساتھ ترے مصلحت ابرو ہے
میر تقی میر