آئے جو ہم چمن میں ہوکر اسیر آئے

دیوان اول غزل 474
گل گشت کی ہوس تھی سو تو بگیر آئے
آئے جو ہم چمن میں ہوکر اسیر آئے
فرصت میں یک نفس کی کیا درد دل سنوگے
آئے تو تم ولیکن وقت اخیر آئے
دلی میں اب کے آکر ان یاروں کو نہ دیکھا
کچھ وے گئے شتابی کچھ ہم بھی دیر آئے
کیا خوبی اس چمن کی موقوف ہے کسو پر
گل گر گئے عدم کو مکھڑے نظیر آئے
شکوہ نہیں جو اس کو پروا نہ ہو ہماری
دروازے جس کے ہم سے کتنے فقیر آئے
عمر دراز کیونکر مختار خضر ہے یاں
ایک آدھ دن میں ہم تو جینے سے سیر آئے
نزدیک تھی قفس میں پرواز روح اپنی
غنچے ہو گلبنوں پر جب ہم صفیر آئے
یوں بیٹھے بیٹھے ناگہ گردن لگے ہلانے
سر شیخ جی کے گویا مجلس میں پیر آئے
قامت خمیدہ اپنی جیسے کماں تھی لیکن
قرباں گہ وفا میں مانند تیر آئے
بن جی دیے نہیں ہے امکان یاں سے جانا
بسمل گہ جہاں میں اب ہم تو میر آئے
میر تقی میر