آئے بیٹھے اٹھ بھی گئے بیتاب ہوئے پھر آئے بھی

دیوان پنجم غزل 1747
دل کی لاگ بری ہوتی ہے رہ نہ سکے ٹک جائے بھی
آئے بیٹھے اٹھ بھی گئے بیتاب ہوئے پھر آئے بھی
آنکھ نہ ٹک میلی ہوئی اپنی مطلق دل بے جا نہ ہوا
دل کی مصیبت کیسی کیسی کیا کیا رنج اٹھائے بھی
ٹھنڈے ہوتے نہ دیکھے ہرگز ویسے ہی جلتے رہتے ہیں
تلوے حنائی اس کے ہم نے آنکھوں سے سہلائے بھی
رنگ نہیں ہے منھ پہ کسی کے باد خزاں سے گلستاں میں
برگ و بار گرے بکھرے ہیں گل غنچے مرجھائے بھی
نفع کبھو دیکھا نہیں ہم نے ایسے خرچ اٹھانے پر
دل کے گداز سے لوہو روئے داغ جگر پہ جلائے بھی
عشق میں اس کے جان مری مشتاق پھرے گی بھٹکی ہوئی
شوق اگر ہے ایسا ہی تو چین کہاں مرجائے بھی
تاجر ترک فقیر ہوئے اب شاعر عالم کامل ہیں
پیش گئی کچھ میر نہ اپنی سوانگ بہت سے لائے بھی
میر تقی میر