آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

دیوان دوم غزل 672
جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا
آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا
اس فتنے کو جگا کے پشیماں ہوئی نسیم
کیا کیا عزیز لوگوں کو ان نے سلا دیا
اب بھی دماغ رفتہ ہمارا ہے عرش پر
گو آسماں نے خاک میں ہم کو ملا دیا
جانی نہ قدر اس گہر شب چراغ کی
دل ریزئہ خزف کی طرح میں اٹھا دیا
تقصیر جان دینے میں ہم نے کبھو نہ کی
جب تیغ وہ بلند ہوئی سر جھکا دیا
گرمی چراغ کی سی نہیں وہ مزاج میں
اب دل فسردگی سے ہوں جیسے بجھا دیا
وہ آگ ہورہا ہے خدا جانے غیر نے
میری طرف سے اس کے تئیں کیا لگا دیا
اتنا کہا تھا فرش تری رہ کے ہم ہوں کاش
سو تونے مار مار کے آکر بچھا دیا
اب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہی
ٹک لگ چلی صبا کہ دیا سا بڑھا دیا
تنگی لگا ہے کرنے دم اپنا بھی ہر گھڑی
کڑھنے نے دل کے جی کو ہمارے کھپا دیا
کی چشم تونے باز کہ کھولا درستم
کس مدعی خلق نے تجھ کو جگا دیا
کیا کیا زیان میر نے کھینچے ہیں عشق میں
دل ہاتھ سے دیا ہے جدا سر جدا دیا
میر تقی میر