اور آسماں غبار سر رہ گذار عشق

دیوان چہارم غزل 1419
نزدیک عاشقوں کے زمیں ہے قرارعشق
اور آسماں غبار سر رہ گذار عشق
مقبول شہر ہی نہیں مجنوں ضعیف و زار
ہے وحشیان دشت میں بھی اعتبارعشق
گھر کیسے کیسے دیں کے بزرگوں کے ہیں خراب
القصہ ہے خرابۂ کہنہ دیارعشق
گو ضبط کرتے ہوویں جراحت جگر کے زخم
روتا نہیں ہے کھول کے دل رازدارعشق
مارا پڑے ہے انس ہی کرنے میں ورنہ میر
ہے دورگرد وادی وحشت شکارعشق
میر تقی میر