ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں

دیوان دوم غزل 869
کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں
ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں
کشتۂ انداز کس کا تھا نہ جانا وہ جواں
لے رہے تھے کچھ ملک اک نعش قربانی کے تیں
چشم کم سے اشک خونیں کو نہ دیکھو زینہار
ڈھونڈتے ہیں مردم اس یاقوت سیلانی کے تیں
طائران خوش معاش اس باغ کے ہم تھے کبھو
اب ترستے ہیں قفس میں اک پر افشانی کے تیں
ہے جہان تنگ سے جانا بعینہ اس طرح
قتل کرنے لے چلیں ہیں جیسے زندانی کے تیں
یہ کہاں بنت العنب سے اٹھتی ہیں کیفیتیں
ہونٹوں سے کیا اس کے نسبت ایسی مستانی کے تیں
دل جو پانی ہو تو آئینہ ہے روے یار کا
خانہ آبادی سمجھ اس خانہ ویرانی کے تیں
فہم میں میرے نہ آیا پردہ در ہے طفل اشک
روئوں کیا اے ہم نشیں میں اپنی نادانی کے تیں
کچھ نظر میں نے نہ کی جی کے زیاں پر اپنے ہائے
دوست میں رکھے گیا اس دشمن جانی کے تیں
جب جلے چھاتی بہت تب اشک افشاں ہو نہ میر
کیا جو چھڑکا اس دہکتی آگ پر پانی کے تیں
میر تقی میر