ان بدمزاجیوں کو چھوڑوگے بھی کبھو تم

دیوان سوم غزل 1173
ہر ہر سخن پہ اب تو کرتے ہو گفتگو تم
ان بدمزاجیوں کو چھوڑوگے بھی کبھو تم
یاں آپھی آپ آکر گم آپ میں ہوئے ہو
پیدا نہیں کہ کس کی کرتے ہو جستجو تم
چاہیں تو تم کو چاہیں دیکھیں تو تم کو دیکھیں
خواہش دلوں کی تم ہو آنکھوں کی آرزو تم
حیرت زدہ کسو کی یہ آنکھ سی لگے ہے
مت بیٹھو آرسی کے ہر لحظہ روبرو تم
تھے تم بھبھوکے سے تو پر اب جلا ہی دوہو
سوزندہ آگ کی کیا سیکھے ہو ساری خو تم
نسبت تو ہم دگر ہے گو دور کی ہو نسبت
ہم ہیں نواے بلبل ہو گل کے رنگ و بو تم
دیکھ اشک سرخ بولا یہ رنگ اور لائے
ہیں میر منھ پہ آنسو یا روتے ہو لہو تم
میر تقی میر