اندرونے میں جیسے باغ لگا

دیوان دوم غزل 705
ایک دل کو ہزار داغ لگا
اندرونے میں جیسے باغ لگا
اس سے یوں گل نے رنگ پکڑا ہے
شمع سے جیسے لیں چراغ لگا
خوبی یک پیچہ بند خوباں کی
خوب باندھوں گا گر دماغ لگا
پائوں دامن میں کھینچ لیں گے ہم
ہاتھ گر گوشۂ فراغ لگا
میر اس بے نشاں کو پایا جان
کچھ ہمارا اگر سراغ لگا
میر تقی میر