الگ بیٹھا حنا بندوں کو آنکھوں میں رچائوں میں

دیوان سوم غزل 1175
کہے تو ہم نشیں رنگ تصرف کچھ دکھائوں میں
الگ بیٹھا حنا بندوں کو آنکھوں میں رچائوں میں
نہیں ہوں بے ادب اتنا کہ گل سے منھ لگائوں میں
جگر ہو ٹکڑے ٹکڑے گر چمن کی اور جائوں میں
کیا ہے اضطراب دل نے کیا مجھ کو سبک آخر
کہاں تک یار کے کوچے سے جا جاکر پھر آئوں میں
وفا صد کارواں رکھتا ہوں لیکن شہر خوبی میں
خریداری نہیں مطلق کہاں جاکر بکائوں میں
مجھے سر در گریباں رہنے دو میں بے توقع ہوں
کسو پتھر سے پٹکوں ہوں ابھی سر جو اٹھائوں میں
بلا حسرت ہے یارب کام دل کیونکر کروں حاصل
مگر لب ہاے شیریں پر کسو کے زہر کھائوں میں
نہ روئوں حال پر کیونکر بلا ناآشنا ہے وہ
کہیں آنکھ اس کی ملتی ہے جو آنکھیں ٹک ملائوں میں
نہ اے رشک بہار آنکھیں اٹھاوے پشت پا سے تو
ہتھیلی پر اگر سرسوں ترے آگے جمائوں میں
کہوں کیا صحبت اس سے ہر گھڑی بگڑی ہی جاتی ہے
جو ٹک راہ سخن نکلے تو سو باتیں بنائوں میں
نگاہ حسرت بت دیر سے جانے کی مانع ہے
مزاج اپنا بہت چاہا کہ سوے کعبہ لائوں میں
اسیر زلف کو اس بت کے کیا قیدمسلمانی
تمنا ہے گلا زنار سے اپنا بندھائوں میں
کہوں ہوں میر سے دل دے کہیں تا جی لگے تیرا
جو ہو نقصان جاں اس کا تو کیونکر پھر منائوں میں
میر تقی میر