الا کھینچ بغل میں تجھ کو دیر تلک ہم پیار کریں

دیوان دوم غزل 887
آج ہمارے گھر آیا تو کیا ہے یاں جو نثار کریں
الا کھینچ بغل میں تجھ کو دیر تلک ہم پیار کریں
خاک ہوئے برباد ہوئے پامال ہوئے سب محو ہوئے
اور شدائد عشق کی رہ کے کیسے ہم ہموار کریں
زردی رخ رونا ہر دم کا شاہد دو جب ایسے ہوں
چاہت کا انصاف کرو تم کیونکر ہم انکار کریں
باغ میں اب آجاتے ہیں تو صرفہ اپنا چپ میں ہے
خوبی بیاں کر تیری ہم کیا گل کو گلے کا ہار کریں
شیوہ اپنا بے پروائی نومیدی سے ٹھہرا ہے
کچھ بھی وہ مغرور دبے تو منت ہم سو بار کریں
ہم تو فقیر ہیں خاک برابر آ بیٹھے تو لطف کیا
ننگ جہاں لگتا ہو ان کو واں وے ایسی عار کریں
پتا پتا گلشن کا تو حال ہمارا جانے ہے
اور کہے تو جس سے اے گل بے برگی اظہار کریں
کیا ان خوش ظاہر لوگوں سے ہم یہ توقع رکھتے تھے
غیر کو لے کر پاس یہ بیٹھیں ہم کو گلیوں میں خوار کریں
میر جی ہیں گے ایک جو آئے کیا ہم ان سے درد کہیں
کچھ بھی جو سن پاویں تو یہ مجلس میں بستار کریں
میر تقی میر