اس کی ہوا میں ہم پہ تو بیداد ہو گئی

دیوان اول غزل 433
آخر ہماری خاک بھی برباد ہو گئی
اس کی ہوا میں ہم پہ تو بیداد ہو گئی
مدت ہوئی نہ خط ہے نہ پیغام ہے مگر
اک رسم تھی وفا کی پر افتاد ہو گئی
دل کس قدر شگفتہ ہوا تھا کہ رات میر
آئی جو بات لب پہ سو فریاد ہو گئی
میر تقی میر