اس کو خدا ہی ہووے تو ہو کچھ خدا سے ربط

دیوان پنجم غزل 1641
جس کو ہوا ہے اس صنم بے وفا سے ربط
اس کو خدا ہی ہووے تو ہو کچھ خدا سے ربط
گل ہو کے برگ برگ ہوئے پھر ہوا ہوئے
رکھتے ہیں اس چمن کے جو غنچے صبا سے ربط
زنہار پشت پا سے نہیں اٹھتی اس کی آنکھ
اس چشم شرمگیں کو بہت ہے حیا سے ربط
شاید اسی کے ہاتھ میں دامن ہو یار کا
ہو جس ستم رسیدہ کو دست دعا سے ربط
کرتی ہے آدمی کو دنی صحبت فقیر
اچھا نہیں ہے میر سے بے تہ گدا سے ربط
میر تقی میر