اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے

دیوان اول غزل 493
آنکھیں لڑا لڑا کر کب تک لگا رکھیں گے
اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے
فکر دہن میں اس کی کچھ بن نہ آئی آخر
اب یہ خیال ہم بھی دل سے اٹھا رکھیں گے
مشت نمک کو میں نے بیکار کم رکھا ہے
چھاتی کے زخم میرے مدت مزہ رکھیں گے
سبزان شہر اکثر درپے ہیں آبرو کے
اب زہر پاس اپنے ہم بھی منگا رکھیں گے
آنکھوں میں دلبروں کی مطلق نہیں مروت
یہ پاس آشنائی منظور کیا رکھیں گے
جیتے ہیں جب تلک ہم آنکھیں بھی لڑتیاں ہیں
دیکھیں تو جور خوباں کب تک روا رکھیں گے
اب چاند بھی لگا ہے تیرے سے جلوے کرنے
شبہاے ماہ چندے تجھ کو چھپا رکھیں گے
مژگان و چشم و ابرو سب ہیں ستم کے مائل
ان آفتوں سے دل ہم کیونکر بچا رکھیں گے
دیوان میر صاحب ہر اک کی ہے بغل میں
دو چار شعر ان کے ہم بھی لکھا رکھیں گے
میر تقی میر