اس نکہت سے موسم گل میں پھول نہیں یاں آئے ہنوز

دیوان پنجم غزل 1624
اس بستر افسردہ کے گل خوشبو ہیں مرجھائے ہنوز
اس نکہت سے موسم گل میں پھول نہیں یاں آئے ہنوز
اس زلف و کاکل کو گوندھے دیر ہوئی مشاطہ کو
سانپ سے لہراتے ہیں بال اس کے بل کھائے ہنوز
آنکھ لگے اک مدت گذری پاے عشق جو بیچ میں ہے
ملتے ہیں معشوق اگر تو ملتے ہیں شرمائے ہنوز
تہ داری کیا کہیے اپنی سختی سے اس کی جیتے موئے
حرف و سخن کچھ لیکن ہرگز منھ پہ نہیں ہم لائے ہنوز
ایسی معیشت کر لوگوں سے جیسی غم کش میر نے کی
برسوں ہوئے ہیں اٹھ گئے ان کو روتے ہیں ہمسائے ہنوز
میر تقی میر