اس لیے دیکھ رہا ہے کہ مجھے آگ لگے

دیوان دوم غزل 991
غیر کو دیکھے ہے گرمی سے نہ کچھ لاگ لگے
اس لیے دیکھ رہا ہے کہ مجھے آگ لگے
آنکھ ہر ایک کی دوڑے ہے کفک پر تیرے
پائوں سے لگ کے ترے مہندی کو کچھ بھاگ لگے
ہو نہ دیوانہ جو اس گوہر خوش آب کا تو
لب دریا کے تئیں کیوں رہیں یوں جھاگ لگے
اب تو ان گیسوئوں کی یاد میں میں محو ہوا
گو قیامت کو مرے منھ سے ہوں دو ناگ لگے
لڑکے دلی کے ترے ہاتھ میں کب آئے میر
پیچھے ایک ایک کے سو سو پھریں ہیں ڈاگ لگے
میر تقی میر