اس لب خاموش کا قائل ہوا

دیوان دوم غزل 735
لعل پر کب دل مرا مائل ہوا
اس لب خاموش کا قائل ہوا
لڑ گئیں آنکھیں اٹھائی دل نے چوٹ
یہ تماشائی عبث گھائل ہوا
ناشکیبی سے گئی ناموس فقر
عاقبت بوسے کا میں سائل ہوا
ایک تھے ہم وے نہ ہوتے ہست اگر
اپنا ہونا بیچ میں حائل ہوا
میر ہم کس ذیل میں دیکھ اس کی آنکھ
ہوش اہل قدس کا زائل ہوا
میر تقی میر