اس غم کدے میں آہ دل خوش کہیں نہیں

دیوان اول غزل 304
کوئی نہیں جہاں میں جو اندوہگیں نہیں
اس غم کدے میں آہ دل خوش کہیں نہیں
کرتا ہے ابر دعوی دریادلی عبث
دامن نہیں مرا تو مری آستیں نہیں
آگے تو لعل نو خط خوباں کے دم نہ مار
ہر چند اے مسیح وے باتیں رہیں نہیں
یہ درد اس کے کیونکے کروں دل نشیں کہ آہ
کہتا ہوں جس طرح سے کہے ہے نہیں نہیں
ماتھا کیا ہے صرف سجود در بتاں
مانند ماہ نو کے مری اب جبیں نہیں
کہتا ہوں حال دل تو کہے ہے کہ مت بکے
کیوں نئیں تری تو بات مرے دل نشیں نہیں
گھر گھر ہے ملک عشق میں دوزخ کی تاب و تب
بھڑکا نہ ہم کو شیخ یہ آتش یوہیں نہیں
ضائع کیا میں اپنے تئیں تونے کی خوشی
بے مہر کیونکے جانیے تجھ میں کہ کیں نہیں
فکربلند سے میں کیا آسماں اسے
ہر یک سے میر خوب ہو یہ وہ زمیں نہیں
میر تقی میر