اس عشق و محبت نے کیا خانہ خرابی کی

دیوان سوم غزل 1285
خوش طرح مکاں دل کے ڈھانے میں شتابی کی
اس عشق و محبت نے کیا خانہ خرابی کی
سسکے ہے دل ایدھرکو بہتا ہے جگر اودھر
چھاتی ہوئی ہے میری دکان کبابی کی
وہ نرگس مستانہ باتیں کرے ہے درہم
تم دیکھو نہ کچھ بولو کیا بات شرابی کی
بے سدھ ہوئے ہم آئی اک بو جو گلستاں سے
پرزور تھی مے کتنی غنچوں کی گلابی کی
رونے سے دل شب کے تر میر کے کپڑے ہیں
پر قدر نہیں اس کو اس جامۂ آبی کی
میر تقی میر