اس ریختے کو ورنہ ہم خوب کرچکے ہیں

دیوان اول غزل 305
دعوے کو یار آگے معیوب کرچکے ہیں
اس ریختے کو ورنہ ہم خوب کرچکے ہیں
مرنے سے تم ہمارے خاطر نچنت رکھیو
اس کام کا بھی ہم کچھ اسلوب کرچکے ہیں
حسن کلام کھینچے کیونکر نہ دامن دل
اس کام کو ہم آخر محبوب کرچکے ہیں
ہنگامۂ قیامت تازہ نہیں جو ہو گا
ہم اس طرح کے کتنے آشوب کرچکے ہیں
رنگ پریدہ قاصد بادسحر کبوتر
کس کس کے ہم حوالے مکتوب کرچکے ہیں
تنکا نہیں رہا ہے کیا اب نثار کریے
آگے ہی ہم تو گھر کو جاروب کرچکے ہیں
ہر لحظہ ہے تزاید رنج و غم و الم کا
غالب کہ طبع دل کو مغلوب کرچکے ہیں
کیا جانیے کہ کیا ہے اے میر وجہ ضد کی
سو بار ہم تو اس کو محجوب کرچکے ہیں
میر تقی میر