اس دو روزہ زیست میں ہم پر بھی کیا کیا ہو گیا

دیوان اول غزل 163
دل گیا رسوا ہوئے آخر کو سودا ہو گیا
اس دو روزہ زیست میں ہم پر بھی کیا کیا ہو گیا
میر تقی میر