اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا

دیوان سوم غزل 1070
کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا
اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا
تھا جسم کا ترک اولیٰ ایام میں پیری کے
جاتا تھا چلا ہر دم جامہ بھی پرانا تھا
ہر آن تھی سرگوشی یا بات نہیں گاہے
اوقات ہے اک یہ بھی اک وہ بھی زمانہ تھا
پامالی عزیزوں کی رکھنی تھی نظر میں ٹک
اتنا بھی تمھیں آ کر یاں سر نہ اٹھانا تھا
اک محوتماشا ہیں اک گرم ہیں قصے کے
یاں آج جو کچھ دیکھا سو کل وہ فسانہ تھا
کیونکر گلی سے اس کی میں اٹھ کے چلا جاتا
یاں خاک میں ملنا تھا لوہو میں نہانا تھا
جو تیر چلا اس کا سو میری طرف آیا
اس عشق کے میداں میں میں ہی تو نشانہ تھا
جب تونے نظر پھیری تب جان گئی اس کی
مرنا ترے عاشق کا مرنا کہ بہانہ تھا
کہتا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منھ
کل میر کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانہ تھا
کب اور غزل کہتا میں اس زمیں میں لیکن
پردے میں مجھے اپنا احوال سنانا تھا
میر تقی میر