اس بے وفا کو ہم سے کچھ الفت نہیں رہی

دیوان دوم غزل 957
وہ رابطہ نہیں وہ محبت نہیں رہی
اس بے وفا کو ہم سے کچھ الفت نہیں رہی
دیکھا تو مثل اشک نظر سے گرا دیا
اب میری اس کی آنکھ میں عزت نہیں رہی
رندھنے سے جی کے کس کو رہا ہے دماغ حرف
دم لینے کی بھی ہم کو تو فرصت نہیں رہی
تھی تاب جی میں جب تئیں رنج و تعب کھنچے
وہ جسم اب نہیں ہے وہ قدرت نہیں رہی
منعم امل کا طول یہ کس جینے کے لیے
جتنی گئی اب اتنی تو مدت نہیں رہی
دیوانگی سے اپنی ہے اب ساری بات خبط
افراط اشتیاق سے وہ مت نہیں رہی
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
میر تقی میر