اس بے نشاں کی ایسی ہیں چندیں نشانیاں

دیوان پنجم غزل 1685
تاروں کی جیسے دیکھیں ہیں آنکھیں لڑانیاں
اس بے نشاں کی ایسی ہیں چندیں نشانیاں
پیری ہے اب تو کہیے سو کیا کہیے ہم نشیں
کس رنج و غم میں گذریں ہیں اپنی جوانیاں
ظلم و ستم سے خون کیا پھر ڈبا دیا
برباد کیا گئیں ہیں مری جاں فشانیاں
میں آپ چھیڑچھیڑ کے کھاتا ہوں گالیاں
خوش آگئیں ہیں اس کی مجھے بد زبانیاں
سنتا نہیں ہے شعر بھی وہ حرف ناشنو
دل ہی میں خوں ہوا کیں مری نکتہ دانیاں
باتیں کڈھب رقیب کی ساری ہوئیں قبول
مجھ کو جو ان سے عشق تھا میری نہ مانیاں
مجلس میں تو خفیف ہوئے اس کے واسطے
پھر اور ہم سے اٹھتیں نہیں سرگرانیاں
عالم کے ساتھ جائیں چلے کس طرح نہ ہم
عالم تو کاروان ہے ہم کاروانیاں
سررفتہ سن نہ میر کا گر قصد خواب ہے
نیندیں اچٹتیاں ہیں سنے یہ کہانیاں
میر تقی میر