اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں

دیوان دوم غزل 908
معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں
اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں
یوسفؑ کے تئیں دیکھ نہ کیوں بند ہوں بازار
یہ جنس نکلتی نہیں ہر اک کی دکاں میں
یک پرچۂ اشعار سے منھ باندھے سبھوں کے
جادو تھا مرے خامے کی گویا کہ زباں میں
یہ دل جو شکستہ ہے سو بے لطف نہیں ہے
ٹھہرو کوئی دم آن کے اس ٹوٹے مکاں میں
میں لگ کے گلے خوب ہی رویا لب جو پر
ملتی تھی طرح اس کی بہت سرو رواں میں
کیا قہر ہوا دل جو دیا لڑکوں کو میں نے
چرچا ہے یہی شہر کے اب پیر و جواں میں
وے یاسمن تازہ شگفتہ میں کہاں میر
پائے گئے لطف اس کے جو پائوں کے نشاں میں
میر تقی میر