اس اوباش کی دیکھو شوخی سادگی سے ہم چاہیں ہیں

دیوان پنجم غزل 1690
پلکیں پھری ہیں کھنچی بھویں ہیں ترچھی تیکھی نگاہیں ہیں
اس اوباش کی دیکھو شوخی سادگی سے ہم چاہیں ہیں
کیا پہناوا خوش آتا ہے لڑکے چسپاں پوشوں کا
مونڈھے چسے ہیں چولی پھنسی ہے ٹیڑھی ٹیڑھی کلاہیں ہیں
ضبط گریہ دل سے ہو تو کوزے میں دریا کرتا ہے
حوصلہ داری جن کی ہو ایسی عشق میں ان کو سراہیں ہیں
جب سے جدا میں ان سے ہوا ہوں حال عجب ہے روز و شب
چشم تر سے ٹپکے ہیں آنسو خشک لبوں پر آہیں ہیں
دل ہے داغ جگر ہے ٹکڑے رہ جاتے ہیں چپکے سے
چھاتی سراہیے ان لوگوں کی جو چاہت کو نباہیں ہیں
دل الجھے ان بالوں میں تو آخر سودا ہوتا ہے
کوچے کو زنجیر کے یعنی زلفوں سے دو راہیں ہیں
یہ بھی سماں خوش ترکیبوں کا میر نہ اپنے دل سے گیا
سوتے سے اٹھ کر آنکھیں ملے ہیں لے انگڑائی جماہیں ہیں
میر تقی میر