اب یہ ستم تازہ ہے ہم پر قید کیا ہے چمن کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1594
فصل گل میں اسیر ہوئے تھے من ہی کی رہی من کے بیچ
اب یہ ستم تازہ ہے ہم پر قید کیا ہے چمن کے بیچ
یہ الجھائو سلجھتا ہم کو دے ہے دکھائی مشکل سا
یعنی دل اٹکا ہے جاکر ان بالوں کے شکن کے بیچ
وہ کرتا ہے جب زباں درازی حیرت سے ہم چپکے ہیں
کچھ بولا نہیں جاتا یعنی اس کے حرف و سخن کے بیچ
دشت بلا میں جاکر مریے اپنے نصیب جو سیدھے ہوں
واں کی خاک عنبر کی جاگہ رکھ دیں لوگ کفن کے بیچ
کبک کی جان مسافر ہووے دیکھے خرام ناز اس کا
نام نہیں لیتا ہے کوئی اس کا میرے وطن کے بیچ
کیا شیریں ہے حرف و حکایت حسرت ہم کو آتی ہے
ہائے زبان اپنی بھی ہووے یک دم اس کے دہن کے بیچ
غم و اندوہ عشقی سے ہر لحظہ نکلتی رہتی ہے
جان غلط کر میر آئی ہے گویا تیرے بدن کے بیچ
میر تقی میر