اب ہم نے بھی کسو سے آنکھیں لڑائیاں ہیں

دیوان اول غزل 320
دیکھیں تو تیری کب تک یہ کج ادائیاں ہیں
اب ہم نے بھی کسو سے آنکھیں لڑائیاں ہیں
ٹک سن کہ سو برس کی ناموس خامشی کھو
دو چار دل کی باتیں اب منھ پرآئیاں ہیں
ہم وے ہیں خوں گرفتہ ظالم جنھوں نے تیری
ابرو کی جنبش اوپر تلواریں کھائیاں ہیں
آئینہ ہو کہ صورت معنی سے ہے لبالب
راز نہان حق میں کیا خود نمائیاں ہیں
کیا چہرہ تجھ سے ہو گا اے آفتاب طلعت
منھ چاند کا جو ہم نے دیکھا تو جھائیاں ہیں
کعبے میں میر ہم پر یا سرگراں ہے زاہد
یا بتکدے میں ہم نے دھولیں لگائیاں ہیں
میر تقی میر