اب کے جو آئے سفر سے خوب مہمانی ہوئی

دیوان دوم غزل 959
قوت کو پیرانہ سر دلی میں حیرانی ہوئی
اب کے جو آئے سفر سے خوب مہمانی ہوئی
بائولے سے جب تلک بکتے تھے سب کرتے تھے پیار
عقل کی باتیں کیاں کیا ہم سے نادانی ہوئی
لوہو پانی ایک دونوں نے کیا میرا ندان
یعنی دل لوہو ہوا سب چشم سب پانی ہوئی
کیا چھپا کچھ رہ گیا ہے مدعاے خط شوق
رقعہ وار اب اشک خونیں سے تو افشانی ہوئی
آنکھ اٹھاکر ٹک جو دیکھا گھر کے گھر بٹھلا دیے
اک نگہ میں سینکڑوں کی خانہ ویرانی ہوئی
مرتبہ واجب کا سمجھے آدمی ممکن نہیں
فہم سودائی ہوا یاں عقل دیوانی ہوئی
چاہ کر اس بے وفا کو آخر اپنی جان دی
دوستی اس کی ہماری دشمن جانی ہوئی
بلبل اس خوبی سے گل ہے سِیَّما سیماے یار
تو عبث اے بے حقیقت غنچہ پیشانی ہوئی
شیخ مت یاد بتاں کو رات کا سا ذکر جان
یاصنم گوئی ہماری کیا خداخوانی ہوئی
غنچۂ گل ہے گلابی پھول ہے جام شراب
توڑتے تو توڑی توبہ اب پشیمانی ہوئی
چشم ہوتے ہوتے تر کچھ سب بھری رہنے لگی
اب ہوئی خطرے کی جاگہ کشتی طوفانی ہوئی
دل تڑپتا تھا نہایت جان دے تسکین کی
بارے اپنی ایسی مشکل کی بھی آسانی ہوئی
جب سے دیکھا اس کو ہم نے جی ڈھہا جاتا ہے میر
اس خرابی کی یہ چشم روسیہ بانی ہوئی
میر تقی میر