اب کیسے لوگ آئے زمیں آسماں کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1370
آگے تو رسم دوستی کی تھی جہاں کے بیچ
اب کیسے لوگ آئے زمیں آسماں کے بیچ
میں بے دماغ عشق اٹھا سو چلا گیا
بلبل پکارتی ہی رہی گلستاں کے بیچ
تحریک چلنے کی ہے جو دیکھو نگاہ کر
ہیئت کو اپنی موجوں میں آب رواں کے بیچ
کیا میل ہو ہما کی پس از مرگ میری اور
ہے جاے گیر عشق کی تب استخواں کے بیچ
کیا جانوں لوگ کہتے ہیں کس کو سرور قلب
آیا نہیں یہ لفظ تو ہندی زباں کے بیچ
طالع سے بن گئی کہ ہم اس مہ کنے گئے
بگڑی تھی رات اس کے سگ و پاسباں کے بیچ
اتنی جبین رگڑی کہ سنگ آئینہ ہوا
آنے لگا ہے منھ نظر اس آستاں کے بیچ
خوگر ہوئے ہیں عشق کی گرمی سے خار و خس
بجلی پڑی رہی ہے مرے آشیاں کے بیچ
اس روے برفروختہ سے جی ڈرے ہے میر
یہ آگ جا لگے گی کسو دودماں کے بیچ
میر تقی میر