اب کیا مرے جنوں کی تدبیر میرصاحب

دیوان سوم غزل 1108
شیون میں شب کے ٹوٹی زنجیر میرصاحب
اب کیا مرے جنوں کی تدبیر میرصاحب
ہم سر بکھیرتے تو وہ تیغ کھنچ نہ سکتی
اپنا گناہ اپنی تقصیر میرصاحب
کھنچتی نہیں کماں اب ہم سے ہواے گل کی
بادسحر لگے ہے جوں تیر میرصاحب
کب ہیں جوانی کے سے اشعار شورآور
شاید کہ کچھ ہوئے ہیں اب پیر میرصاحب
تم کس خیال میں ہو تصویر سے جو چپ ہو
کرتے ہیں لوگ کیا کیا تقریر میرصاحب
میر تقی میر