اب وہ دل میں تاب نہیں جو لب تک آہ سرد کھنچے

دیوان پنجم غزل 1749
ظلم سہے ہیں داغ ہوئے ہیں رنج اٹھے ہیں درد کھنچے
اب وہ دل میں تاب نہیں جو لب تک آہ سرد کھنچے
جیتے جی میت کے رنگوں عشق میں اس کے ہو بیٹھا
بعد مرے نقاش سے شاید صورت میری زرد کھنچے
خاک ہوئی تھی سرکشی اپنی جوں کی توں اپنی طبیعت میں
میر عجب کیا ہے اس کا تا گردوں جو یہ گرد کھنچے
میر تقی میر