اب صبح ہونے آئی ہے اک دم تو سویئے

دیوان اول غزل 543
پیری میں کیا جوانی کے موسم کو رویئے
اب صبح ہونے آئی ہے اک دم تو سویئے
رخسار اس کے ہائے رے جب دیکھتے ہیں ہم
آتا ہے جی میں آنکھوں کو ان میں گڑویئے
اخلاص دل سے چاہیے سجدہ نماز میں
بے فائدہ ہے ورنہ جو یوں وقت کھویئے
کس طور آنسوئوں میں نہاتے ہیں غم کشاں
اس آب گرم میں تو نہ انگلی ڈبویئے
مطلب کو تو پہنچتے نہیں اندھے کے سے طور
ہم مارتے پھرے ہیں یو نہیں ٹپّے ٹویئے
اب جان جسم خاکی سے تنگ آگئی بہت
کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے
آلودہ اس گلی کی جو ہوں خاک سے تو میر
آب حیات سے بھی نہ وے پائوں دھویئے
میر تقی میر